جزوی و کلی
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - چھوٹے اور بڑے، معمولی اور پورے، سب کے سب، سارے۔ "لوگوں کے حالات جزوی و کلی کو بخوبی جانتا ہے۔" ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعت، ٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے ماخوذ صفت 'جزوی' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی زبان سے ہی صفت 'کلی' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت اور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٧٧١ء میں "ہشت بہشت" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - چھوٹے اور بڑے، معمولی اور پورے، سب کے سب، سارے۔ "لوگوں کے حالات جزوی و کلی کو بخوبی جانتا ہے۔" ( ١٨٤٨ء، توصیف زراعت، ٤ )